حدیث نمبر: 3136
(وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ أَنَّهُ قَالَ: ((مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ))، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبَا هُرٍّ! انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (وَفِي لَفْظٍ: انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! فَإِنَّكَ تُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى انْطَلَقَ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ))؟ قَالَتْ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَشْغَلُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَرْسُ الْوَادِيِّ وَلَا صَفْقٌ بِالْأَسْوَاقِ، إِنِّي إِنَّمَا كُنْتُ أَطْلُبُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً يُعَلِّمُنِيهَا وَأُكْلَةً يُطْعِمُنِيهَا؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! كُنْتَ أَلْزَمَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ وَأَعْلَمَنَا بِحَدِيثِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی میت کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور اگر وہ دفن تک ساتھ رہے تو اسے دو قیراط ثواب ملتا ہے، ایک قیراط احدپہاڑ سے بھی بڑا ہوتاہے۔ یہ حدیث سن کر سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوہِریرہ! ذرا خیال کروکہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا کچھ بیان کر رہے ہو؟ایک روایت میں ہے: انہوں نے کہا: ابوہریرہ! ذرا غور کرو کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا بیان کر رہے ہو؟ تم رسول اللہ سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتے ہو۔ یہ سن کر سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے گئے اور کہا اے ام المومنین! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جو آدمی میت کے ساتھ چلے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط اور جو آدمی دفن تک ساتھ رہے اسے دو قیراط اجر ملتا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے یہ حدیث سنی ہے۔ پھر سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:(اصل بات یہ ہے کہ) نہ کھیتی باڑی مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصروف رکھ سکی اور نہ بازاروں میں سودا کرنا، میں تو اس تلاش میں رہتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کسی کلمے اور فرمان کی تعلیم دے دیں اور کوئی کھانا کھلا دیں۔ یہ سن کر سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوہریرہ! واقعی تم ہم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور ہم سب سے بڑھ کر احادیث رسول کو جانتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … پہلے تو سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے تعجب کا اظہار کیا کہ ان کی طرح کا ایک آدمی اس قدر کثرت سے احادیث کیوں بیان کرتا ہے، لیکن جب متعلقہ شخص نے شہادت پیش کرنے کے بعد ساری وجوہات پیش کیں تو سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا شبہ زائل ہو گیا، دراصل وہ سب لوگ حق کے متلاشی تھے اور جب حقائق سامنے آ جاتے تو ان کے شبہات زائل ہو جاتے تھے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ کے مطابق آخر میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ افسوس بھی کیا تھا کہ وہ تو پھر میت کی تدفین سے غائب ہو کر کئی قیراط ضائع کر چکے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3136
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1323، 1324، ومسلم: 945 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4453»