الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ التَّحْدِيثِ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
عَنْ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اللَّهُ أَعْلَمُ)) قَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا تَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُمْ وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُمْ))سیدنا ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک یہودی آدمی آ گیا اور اس نے کہا: ”اے محمد! کیا یہ جنازے کلام کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔“ اس نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ کلام کرتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل کتاب تم کو کوئی ایسی چیز بیان کریں تو نہ ان کی تصدیق کیا کرو اور نہ تکذیب، بلکہ اس طرح کہہ دیا کرو: «آمَنَّا بِاللّٰہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ» (ہم اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔) پس اگر وہ حق ہوا تو تم نے اس کو جھٹلایا نہیں اور اگر وہ باطل ہوا تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔“