الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ التَّحْدِيثِ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي مَرَرْتُ بِأَخٍ لِي مِنْ قُرَيْظَةَ فَكَتَبَ لِي جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاةِ، أَلَا أَعْرِضُهَا عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، قَالَ: فَسُرِّيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، إِنَّكُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ))سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! قریظہ کے ایک بھائی کے پاس سے میرا گزر ہوا، پس اس نے میرے لیے تورات کی اہم اہم باتیں لکھ دیں، کیا میں ان کو آپ پر پیش کروں؟“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہونا شروع ہو گیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر کیا تبدیلی آئی ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (غصے والی کیفیت) ختم ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تم میں آ جائیں اور پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگ جاؤ تو گمراہ ہو جاؤ گے، بیشک تم امتوں میں سے میرا حصہ ہو اور میں انبیاء میں سے تمہارا حصہ ہوں۔“