الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ التَّحْدِيثِ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَرَأَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ فَقَالَ: ((أَتَمَهَوَّكُونَ فِيهَا يَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ أَنَّ مُوسَى حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي))سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک کتاب لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ ان کو کسی اہل کتاب سے ملی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑھنا شروع کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر بن خطاب! کیا تم اپنی شریعت کے بارے میں شک میں پڑ گئے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے پاس ایسی شریعت لے کر آیا ہوں، جو واضح، صاف (اور شک و شبہ سے پاک) ہے، ان اہل کتاب سے سوال نہ کیا کرو، ورنہ ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ تم کو حق بات بتلائیں اور تم اس کو جھٹلا دو یا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ تم کو باطل بات بتلائیں اور تم اس کی تصدیق کر دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی صرف میری پیروی کرنے کی گنجائش ہوتی۔“