حدیث نمبر: 300
عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا، فَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ أَوْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیا کرو، کیونکہ وہ ہرگز تمہاری رہنمائی نہیں کریں گے، جبکہ وہ تو گمراہ ہو چکے ہیں، اور اس معاملے میں یا تو تم کو باطل کی تصدیق کرنا پڑے گی یا حق کو جھٹلانا پڑے گا، پس بیشک اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے اندر زندہ ہوتے تو ان کے لیے حلال نہ ہوتا، مگر میری پیروی کرنا۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 300
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد۔ أخرجه البزار: 124، وابويعلي: 2135، والبيھقي: 2/ 10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14685»