الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ باب: توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ الْبَيْضَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا رَدِيفُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا سُهَيْلَ بْنَ الْبَيْضَاءِ!)) وَرَفَعَ صَوْتَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُهُ سُهَيْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَظَنُّوا أَنَّهُ يُرِيدُهُمْ، فَحَبَسَ مَنْ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَحِقَهُ مَنْ كَانَ خَلْفَهُ حَتَّى إِذَا اجْتَمَعُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ وَأَوْجَبَ لَهُ الْجَنَّةَ، (وَفِي رِوَايَةٍ) أَوْجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا الْجَنَّةَ وَأَعْتَقَهُ بِهَا مِنَ النَّارِ))سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ باآواز بلند فرمایا: ”اے سہیل بن بیضاء!“ آگے سے سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ جواب بھی دیتے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔“ ایک روایت میں ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اور اس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔“