الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِي وُجُوبِ مَعْرِفَةِ اللهِ تَعَالَى وَتَوْحِيدِهِ وَالاعْتِرَافِ بِوُجُودِهِ باب: اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ، قَالَ: فَيَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ، قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي» ۔سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنمی آدمی سے کہا جائے گا: اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ زمین پر جو چیزیں بھی ہیں، کیا تو (اس عذاب سے بچنے کے لیے) وہ فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو تجھ سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا، میں نے تجھ سے یہ عہد لیا تھا، جبکہ تو آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھا، کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، لیکن تو نے انکار کر دیا تھا اور (اسی چیز پر ڈٹ گیا کہ) تو نے میرے ساتھ شرک ہی کرنا ہے۔“
اور جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بنایا کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ یا یوں کہو کہ پہلے پہل یہ شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔ (سورۂ اعراف: ۱۷۲، ۱۷۳) یہ عہد ہم اس لیے تسلیم کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کی اطلاع دے دی ہے، بہرحال اس کا اثر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی یہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں ودیعت رکھ دی گئی ہے اور اگر یہ فطرت مختلف آلائشوں کی وجہ سے اپنی حیثیت کھو نہ بیٹھی ہو تو ایسا انسان فوراً حق کی آواز کو قبول کرتا ہے، لیکن اگر شرک و بدعت یا گندے معاشرے کی وجہ سے وہ فطرت متأثر ہو چکی ہو تو اس کو حق تسلیم کرنے میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے اور اس کے لیے یہ مرحلہ مشکل ہو جاتا ہے، جلد اور بدیر اسلام قبول کرنے والے صحابۂ کرام کی وجہ یہی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جس طرح جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، اس کا ناک، کان کٹا نہیں ہوتا۔