الفتح الربانی
أبواب صلاة الخوف وهى أنواع— نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں
بَابُ الصَّلَاةِ فِي شِدَّةِ الْخَوْفِ وَمَا يُبَاحُ فِيهَا مِنْ كَلَامٍ وَإِيمَاءٍ وَغَيْرِهِ باب: شدتِ خوف میں نماز کا طریقہ او راس میں کلام اور اشاروں وغیرہ کا جائز ہونا
حدیث نمبر: 2969
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَتَأْمُرُ أَصْحَابَكَ إِنَّ هَاجَهُمْ هَيْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ الْقِتَالُ وَالْكَلَامُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیّدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: آپ اپنے ساتھیوں سے کہہ دیں اگر (دوران نماز) دشمن حملہ آور ہوجائے تو ان کے لیے قتال اور کلام دونوں جائز ہیں۔