الفتح الربانی
أبواب صلاة الخوف وهى أنواع— نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں
بَابُ نَوْعٍ خَامِسٍ يَتَضَمَّنُ صَلَاةَ الْإِمَامِ بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ بِسَلَامٍ باب: نماز خوف کی پانچویں صورت¤امام ہر گروہ کو (الگ الگ) ایک سلام کے ساتھ دو دو رکعتیں پڑھائے
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ، ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَتَخَافُنِي؟ قَالَ: ((لَا))، قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: ((اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَمْنَعُنِي مِنْكَ)) فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ، فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ وَتَأَخَّرُوا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ ذات الرقاع مقام تک پہنچ گئے، جب ہم کسی سایہ دار درخت کے پاس آتے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چھوڑ دیتے۔ تو ایک مشرک آیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار درخت کے ساتھ لٹک رہی تھی،اس نے یہ تلوار پکڑی اور اسے سونت کر کہا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ وہ بولا: تو پھر اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ صحابۂ کرام اس کو جھڑکنے لگے، پس اس نے تلوار میان میں ڈالی اور اسے لٹکا دیا، اتنے میں نماز کے لیے اذان دے دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ لوگ چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔