الفتح الربانی
أبواب صلاة الخوف وهى أنواع— نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں
بَابُ نَوْعٍ خَامِسٍ يَتَضَمَّنُ صَلَاةَ الْإِمَامِ بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ بِسَلَامٍ باب: نماز خوف کی پانچویں صورت¤امام ہر گروہ کو (الگ الگ) ایک سلام کے ساتھ دو دو رکعتیں پڑھائے
حدیث نمبر: 2963
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَلَّى بِبَعْضِ أَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَتَأَخَّرُوا، وَجَاءَ آخَرُونَ فَكَانُوا فِي مَكَانِهِمْ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَصَارَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، یہ لوگ چلے گئے اور دوسرے آ کر ان کے مقام پر کھڑے ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات میں فرض نماز تو دو رکعت ہی تھی، اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جب امام نفل پڑھ رہا ہو تو اس کی اقتدا میں فرض پڑھے جا سکتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسرے گروہ کو امامت کروا رہے تھے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نماز تھی۔