الفتح الربانی
أبواب صلاة الخوف وهى أنواع— نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں
بَابُ نَوْعٍ رَابِعٍ يَتَضَمَّنُ صَلَاةَ الْإِمَامِ بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً وَانْتِظَارِهِ لِقَضَاءِ كُلِّ طَائِفَةٍ باب: نمازِ خوف کی چوتھی صورت¤امام ہر گروہ کو ایک ایک رکعت پڑھا کر اس قدر انتظار کرے کہ وہ لوگ دوسری رکعت خود پڑھ لیں
عَنْ مُخْمِلِ بْنِ دَمَاثٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَأَلَ النَّاسَ: مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ (ابْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ): أَنَا، صَلَّى بِطَائِفَةٍ مِنَ الْقَوْمِ رَكْعَةً وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ فَقَامُوا مَقَامَ أَصْحَابِهِمْ مُوَاجِهِي الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌمخمل بن دماث کہتے ہیں: میں سعید بن عاص کے ساتھ ایک لڑائی میں شریک تھا، انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی ہے؟ سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا۔ یہ لوگ (ایک رکعت پڑھ کر) دشمن کے بالمقابل اپنے ساتھیوں کی جگہ پر جا کر کھڑے ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی ایک ایک ۔