حدیث نمبر: 2960
عَنْ مُخْمِلِ بْنِ دَمَاثٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَأَلَ النَّاسَ: مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ (ابْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ): أَنَا، صَلَّى بِطَائِفَةٍ مِنَ الْقَوْمِ رَكْعَةً وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ فَقَامُوا مَقَامَ أَصْحَابِهِمْ مُوَاجِهِي الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مخمل بن دماث کہتے ہیں: میں سعید بن عاص کے ساتھ ایک لڑائی میں شریک تھا، انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی ہے؟ سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا۔ یہ لوگ (ایک رکعت پڑھ کر) دشمن کے بالمقابل اپنے ساتھیوں کی جگہ پر جا کر کھڑے ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی ایک ایک ۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازِ خوف ایک رکعت بھی ادا کی جا سکتی ہے، چونکہ کئی موقعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مقتدیوں کو دو دو رکعتیں بھی پڑھائیں، اس لیے یہ تأویل کرنا بہتر ہے کہ جب شدتِ خوف ہو اور دشمن کی طرف سے کسی حملے کا واقعی خطرہ ہو تو امام لوگوں کو ایک ایک رکعت پڑھا دے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الخوف وهى أنواع / حدیث: 2960
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، مُخمِل بن دماث تفرد بالرواية عنه عطية بن الحارث، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، فھو مجھول الحال۔ أخرجه أبوداود مختصرا: 1246، والنسائي: 3/ 167، 168 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23268، 23352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23742»