الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
فَضْلٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي كِتَابَةِ الْحَدِيثِ باب: حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (يَعْنِي بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ فَقَالُوا: إِنَّكَ تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((اكْتُبْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي حَقٌّ))سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو چیز سنتا تھا، اس کو یاد کرنے کے ارادے سے لکھ لیتا تھا، لیکن قریشیوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا اور کہا: ”تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیتا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بشر ہیں اور غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے رہتے ہیں،“ چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتلا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو لکھ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھ سے صرف حق کا صدور ہوتا ہے۔“