الفتح الربانی
أبواب صلاة الخوف وهى أنواع— نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں
بَابُ نَوْعٍ ثَانٍ يَتَضَمَّنُ صَلَاةَ الْإِمَامِ بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً وَقَضَاءِ كُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً باب: نماز خوف کی دوسری صورت¤امام ہرگروہ کو ایک ایک رکعت پڑھائے اور لوگ ایک ایک رکعت الگ الگ پڑھیں
حدیث نمبر: 2956
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نجد کی جانب ایک غزوہ میں شرکت کی، پس ہم دشمن کے سامنے آگئے … ۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے نماز خوف کا یہ طریقہ ثابت ہوا کہ امام، لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کرے، ایک گروہ امام کے ساتھ نماز پڑھے اور دوسرا دشمن کے سامنے کھڑا رہے، پہلی رکعت کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے کی جگہ پر آجائیں، پھر جب امام سلام پھیرے تو یہ ایک ایک رکعت ادا کر لیں۔ یہ کیفیت اس وقت ہو گی، جب دشمن قبلہ کی سمت میں نہیں ہو گا۔