الفتح الربانی
أبواب صلاة الخوف وهى أنواع— نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں
بَابُ نَوْعٍ ثَانٍ يَتَضَمَّنُ صَلَاةَ الْإِمَامِ بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً وَقَضَاءِ كُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً باب: نماز خوف کی دوسری صورت¤امام ہرگروہ کو ایک ایک رکعت پڑھائے اور لوگ ایک ایک رکعت الگ الگ پڑھیں
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ صَلَّاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ وَرَاءَهُ طَائِفَةٌ مِنَّا، وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، سَجَدَ مِثْلَ نِصْفِ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَأَقْبَلُوا عَلَى الْعَدُوِّ فَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَصَلَّى لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی۔ (اس کی تفصیل یہ تھی:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، ہم میں سے ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف بنا کر (نماز شروع کر دی) اور ایک گروہ دشمن پر متوجہ ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکوع اور دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی، یہ رکعت نمازِ فجر کے نصف کے برابر تھی، پھر یہ لوگ پھر گئے اور دشمن کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے، پھر دوسرا گروہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صف بنائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے کی طرح ایک رکعت پڑھائی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو دو گروہوں میں سے ہر بندہ کھڑا ہوا اور علیحدہ علیحدہ دوسجدوں سمیت ایک ایک رکعت ادا کر لی۔