الفتح الربانی
أبواب صلاة الخوف وهى أنواع— نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں
بَابُ سَبَبِ مَشْرُوعِيَّتِهَا وَحُكْمِهَا وَمَنْ كَانَتْ وَذِكْرِ النَّوْعِ الْأَوَّلِ مِنْ أَنْوَاعِهَا باب: نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی¤نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
حدیث نمبر: 2952
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتَّ مِرَارٍ قَبْلَ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَكَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ فِي السَّنَةِ السَّابِعَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خوف سے پہلے چھ غزوے کئے تھے اور نماز خوف ہجرت کے ساتویں سال مشروع ہوئی۔
وضاحت:
فوائد: … چھ غزوات سے مراد وہ غزوے ہیں، جن میں لڑائی ہوئی تھی، وہ بالترتیب یہ ہیں: غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ خندق، غزوۂ قریظہ، غزوۂ مریسیع، غزوۂ خیبر۔اس باب میں نمازِ خوف کی اس صورت کا ذکر ہے، جس کے مطابق دشمن، اسلامی فوج اور ان کے قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔