حدیث نمبر: 2951
عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا فَأْمُرْ أَصْحَابَكَ يَقُومُونَ طَائِفَتَيْنِ طَائِفَةٌ خَلْفَكَ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ فَتُكَبِّرُ وَيُكَبِّرُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ وَيَسْجُدُ مَعَكَ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَالطَّائِفَةُ الَّتِي بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ قِيَامٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ يَسْجُدُونَ، ثُمَّ يَتَأَخَّرُ هَؤُلَاءِ وَيَتَقَدَّمُ الْآخَرُونَ فَقَامُوا فِي مَصَافِّهِمْ فَتَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى قَائِمَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمْتَ وَسَلَّمَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَتَأْمُرُ أَصْحَابَكَ إِنْ هَاجَهُمْ هَيْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ الْقِتَالُ وَالْكَلَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سلیم بن عبد سلولی کہتے ہیں:ہم سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان کے علاقہ میں تھے، ان کے ہمراہ کچھ صحابہ بھی تھے۔ انہوں نے پوچھا: آپ میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟ سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے پڑھی ہے۔ آپ اس طرح کریں کہ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ آپ کے پیچھے دو صفوں میں کھڑے ہو جائیں۔ ایک گروہ آپ کے پیچھے ہو گا اور دوسرا دشمن کے سامنے۔ آپ اللہ اکبر کہیں گے، سب لوگ بھی اللہ اکبر کہیں گے۔ آپ رکوع کریں گے،سب لوگ بھی آپ کے ساتھ رکوع کریں گے، آپ رکوع سے سر اٹھائیں گے، سب لوگ بھی رکوع سے سر اٹھائیں گے۔ لیکن جب آپ سجدہ کریں گے تو آپ کے ساتھ والی صف سجدے کرے گی اور دوسری صف والے دشمن کے سامنے کھڑے رہیں گے۔ جب آپ سجدے کر لیں گے، تو دوسری صف والے لوگ سجدے کریں گے، پھر پہلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آگے آ جائیں گے اور اسی طریقہ کے مطابق سب لوگ آپ کے ساتھ رکوع کریں گے، لیکن جب آپ سجدہ کریں گے تو پہلی صف والے لوگ آپ کے ساتھ سجدے کریں گے اور پچھلی صف والے کھڑے رہیں گے، جب آپ سجدے کر لیں گے تو دوسری صف والے لوگ سجدے کریں گے، اس کے بعد جب آپ سلام پھیریں گے تو سب لوگ آپ کے ساتھ سلام پھیریں گے۔نیز آپ اپنے ساتھیوں کو بتلا دیں کہ اگر دشمن حملہ آور ہو جائے تو ان کے لیے (نماز کے دوران) قتال اور کلام جائز ہو جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس سے ملتی جلتی نماز خوف کی ایک صورت صحیح مسلم (۸۴۰) کی سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ اور یہ حدیث مسند احمد (۲۳۲۶۸، ۲۳۴۳۳) میں بھی صحیح سند کے ساتھ گزر چکی ہے، لیکن اس کا سیاق اس سے ذرا مختلف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الخوف وهى أنواع / حدیث: 2951
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سليم بن عبد السلولي تفرد بالرواية عنه أبو اسحاق السبيعي أخرجه ابن خزيمة: 1365، والبيھقي: 3/252 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23847»