الفتح الربانی
أبواب صلاة الخوف وهى أنواع— نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں
بَابُ سَبَبِ مَشْرُوعِيَّتِهَا وَحُكْمِهَا وَمَنْ كَانَتْ وَذِكْرِ النَّوْعِ الْأَوَّلِ مِنْ أَنْوَاعِهَا باب: نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی¤نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَذَكَرَ أَنَّ الْعَدُوَّ كَانُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَأَنَّا صَفَّفْنَا خَلْفَهُ فَكَبَّرَ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ جَمِيعًا، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَامَ وَقَامَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، فَرَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَجَلَسَ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسَّجُودِ، ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا، قَالَ جَابِرٌ: كَمَا يَفْعَلُ حَرَسُكُمْ هَؤُلَاءِ بِأُمَرَائِهِمْسیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی ، اس موقع پر دشمن قبلہ کی جانب تھا ۔ ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں ، آپ نے اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کی ، ہم نے بھی اللہ اکبر کہا ، آپ نے رکوع کیا ، ہم سب نے بھی رکوع کیا ، رکوع کے بعد جب آپ نے سجدہ کیا تو آپ کے پیچھے والی صف نے سجدہ کیا اور دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پہلی صف والے سجدوں کے بعد کھڑے ہو گئے تو دوسری صف والوں نے سجدے کیے ۔ اس کے بعد اگلی صف والے پیچھے ہو گئے اور پچھلی صف والے آگے ہو گئے ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو سب لوگوں نے رکوع کیا ۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کو گئے تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدے کیے ۔ (اور پچھلی صف والے نمازی حسب سابق کھڑے رہے) جب آپ سجدوں کے بعد بیٹھے تو پچھلی صف والے نمازیوں نے سجدے کیے اور پھر وہ بھی بیٹھ گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سلام پھیرا تو سب نمازیوں نے آپ کے ساتھ سلام پھیرا ۔ جابر کہتے ہیں : (دوسری صف والے نمازی اسی طرح کھڑے رہے) جس طرح آج کل پہرہ دینے والے حضرات امراء و حکام کے ساتھ کرتے ہیں ۔‘‘