الفتح الربانی
أبواب صلاة الخوف وهى أنواع— نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں
بَابُ سَبَبِ مَشْرُوعِيَّتِهَا وَحُكْمِهَا وَمَنْ كَانَتْ وَذِكْرِ النَّوْعِ الْأَوَّلِ مِنْ أَنْوَاعِهَا باب: نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی¤نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِكُونَ عَلَيْهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَالُوا: قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ، قَالُوا: تَأْتِي عَلَيْهِمُ الْآنَ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَٰذِهِ الْآيَاتِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمْ الصَّلَاةَ … } قَالَ: فَحَضَرَتْ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذُوا السَّلَاحَ، قَالَ: فَصَفَّفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا سَجَدُوا وَقَامُوا جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا فِي مَكَانِهِمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ: فَصَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ، مَرَّةً بِعُسْفَانَ، وَمَرَّةً بِأَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍسیّدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر تھے، مشرکین ہمارے مدمقابل آ گئے، ان کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، وہ لوگ آپس میں کہنے لگے:یہ مسلمان نماز میں مشغول تھے، کاش کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا لیتے۔ پھر انھوں نے کہا: ابھی کچھ دیر بعد ان کی ایک اور نماز کاوقت ہونے والا ہے، وہ ان کو اپنی جانوں اور اولادوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اسی وقت ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے۔ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمْ الصَّلَاۃَ … } (جب تو ان میں ہو، پس ان کے لیے نماز قائم کرے … ۔) جب عصر کاوقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام اسلحہ لے کر کھڑے ہوں، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا اور جب آپ رکوع سے اٹھے تو ہم بھی اٹھ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو صرف آپ کے پیچھے والی پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔ جب وہ لوگ سجدے کرکے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر اپنی اپنی جگہ سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے شروع میں) اگلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آ گئے۔ پھر اسی طرح سب نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے، جب آپ اور پہلی صف والے لوگ سجدہ کرکے بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا (اور سب تشہد میں بیٹھ گئے، پھر) سب نے مل کر سلام پھیر ا اور نماز سے فارغ ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انداز میں دو دفعہ نماز پڑھائی، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنو سلیم کے علاقہ میں۔