الفتح الربانی
أبواب صلاة الخوف وهى أنواع— نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں
بَابُ سَبَبِ مَشْرُوعِيَّتِهَا وَحُكْمِهَا وَمَنْ كَانَتْ وَذِكْرِ النَّوْعِ الْأَوَّلِ مِنْ أَنْوَاعِهَا باب: نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی¤نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
حدیث نمبر: 2947
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا وَعَلَى الْمَسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ وَعَلَى الْخَائِفِ رَكْعَةًترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر مقیم آدمی پر چار، مسافر پر دو اور خوف والے پر ایک رکعت فرض کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَائِفَۃٌ مِّنْھُمْ