الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي النَّهْي عَنْ كِتَابَةِ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كُنَّا قُعُودًا نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: ((مَا هَذَا تَكْتُبُونَ؟)) فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ مِنْكَ، فَقَالَ: ((أَ كِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟ امْحُضُوا كِتَابَ اللَّهِ، أَ كِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟ امْحُضُوا كِتَابَ اللَّهِ وَخَلِّصُوهُ)) قَالَ: فَجَمَعْنَا مَا كَتَبْنَا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ أَحْرَقْنَاهُ بِالنَّارِ، قُلْنَا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ! أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، فَإِنَّكُمْ لَا تُحَدِّثُونَ عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبُ مِنْهُ))سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بیٹھے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی احادیث لکھ رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: ”تم یہ کیا لکھ رہے ہو؟“ ہم نے کہا: ”جو کچھ آپ سے سنتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صرف اللہ کی کتاب کو لکھو، کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لکھو اور اس کو کسی دوسری چیز کے ساتھ خلط ملط نہ کرو۔“ پس ہم نے جو کچھ لکھا تھا، اس کو ایک جگہ پر جمع کیا اور آگ سے جلا دیا، پھر ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کی احادیث بیان کر سکتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تم مجھ سے بیان کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔“ پھر ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم بنو اسرائیل سے بھی بیان کر سکتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، بنو اسرائیل سے بھی بیان کر سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تم ان سے جو بھی بیان کرو، بہرحال ان میں اس سے زیادہ تعجب انگیز بات ہو گی۔“