الفتح الربانی
أبواب صلاة الاستسقاء— نمازِ استسقاء کے ابواب
(بَابُ) الِاسْتِسْقَاءِ بِالدُّعَاءِ فِي خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ وَمَنِ اسْتَسْقَا بِغَيْرِ صَلَاةٍ باب: جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنے اور نماز کے بغیر یہ دعا کرنے کا بیان
عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ السِّمْطِ أَنَّهُ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ! حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: اسْتَسْقِ اللَّهَ لِمُضَرَ، فَقَالَ: ((إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، أَلِمُضَرَ؟)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اسْتَنْصَرْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَنَصَرَكَ وَدَعَوْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَجَابَكَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ يَقُولُ: ((اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مُرِيعًا مَرِيعًا طَبَقًا غَدَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ))، قَالَ: فَأُجِيبُوا، قَالَ: فَمَا لَبِثُوا أَنْ أَتَوْهُ فَشَكَوْا إِلَيْهِ كَثْرَةَ الْمَطَرِ، فَقَالُوا: قَدْ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: ((اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا))، قَالَ: فَجَعَلَ الْسَّحَابُ يَتَقَطَّعُ يَمِينًا وَشِمَالًاشرجیل بن سمط نے سیّدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے کعب بن مرۃ! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرو اور احتیاط کرنا، انھوں نے کہا: میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: مضر قبیلے کے لیے اللہ سے بارش کی دعا کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو بڑا جرأت مند ہے، کیا مضر کے لیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ نے اللہ سے مدد مانگی تو اس نے آپ کی مدد کی اور آپ نے اللہ سے دعا کی تو اس نے قبول کی، (لہٰذا اب کی بار بھی دعا کر دیں)۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہم پر ایسی بارش برسا، جو سختی و پریشانی کو دور کرنے والی ،زمین کو سر سبز کرنے والی اور اچھے انجام والی ہو اور وہ عام بارش ہو اور زیادہ پانی والی ہو، وہ جلدی آنے والی ہو، دیر کرنے والی نہ ہو، نفع دینے والی ہو، نقصان دینے والی نہ ہو۔ پس لوگوں کا مطالبہ پورا ہو گیا اور وہ جلدی ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (دوبارہ) پہنچے اور بارش کی کثرت کی شکایت کرتے ہوئے کہنے لگے: گھر گرنے لگ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد برسا، نہ کہ ہم پر۔ بادل پھٹ کر دائیں بائیں ہونا شروع ہو گئے۔