الفتح الربانی
أبواب صلاة الاستسقاء— نمازِ استسقاء کے ابواب
(بَابُ) الِاسْتِسْقَاءِ بِالدُّعَاءِ فِي خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ وَمَنِ اسْتَسْقَا بِغَيْرِ صَلَاةٍ باب: جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنے اور نماز کے بغیر یہ دعا کرنے کا بیان
(وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكَ الْمَالُ، وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا تُرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْنَا الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ(چوتھی سند)سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں لوگ قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اتنے میں ایک خانہ بدوش آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!مویشی ہلاک ہو گئے ہیں اور اہل و عیال بھوکے ہیں، اس لیے آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں پانی پلائے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے (اور دعا کی)، جبکہ آسمان میں بادل کا ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا، پھر تو پہاڑوں کی طرح بادل جمع ہو گئے اور ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نہیں اترے تھے کہ ہم نے بارش کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک پر گرتے ہوئے دیکھا۔ (پھر بقیہ حدیث بیان کی)۔