حدیث نمبر: 2931
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ؟ فَقَالَ: قِيلَ لَهُ يَوْمَ جُمُعَةٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَحِطَ الْمَطَرُ، وَأَجْدَبَتِ الْأَرْضُ، وَهَلَكَ الْمَالُ، قَالَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ فَاسْتَسْقَى، وَلَقَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً، فَمَا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ حَتَّى إِنَّ قَرِيبَ الدَّارِ الشَّابَّ لَيُهِمُّهُ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَاحْتَبَسَتِ الرُّكْبَانُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ، وَقَالَ: ((اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا))، فَتَكَشَّطَتْ (وَفِي لَفْظٍ فَتَكَشَّفَتْ) عَنِ الْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دعا کے لیے) اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے؟ انھوں نے کہا: کسی نے جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول ! بارش کا قحط پڑ گیا ہے،زمین خشک ہو گئی ہے اور مال مویشی ہلاک ہو رہے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے، حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کے لیے دعا مانگی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے تھے تو آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا، لیکن ابھی تک ہم نے نماز پوری نہیں کی تھی کہ (اتنی زیادہ بارش ہوئی کہ) قریب گھر والے نوجوان کے لیے بھی اپنے گھر کو لوٹنا مشکل ہوگیا۔ جب اس کے بعد والا جمعہ آیا تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گھر گرنے لگ گئے ہیں اورقافلے رک گئے ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آدم کے بیٹے کے جلدی اُکتا جانے پر مسکرانے لگے اور کہا: اَللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔ یعنی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش برسا ، نہ کہ ہمارے اوپر۔ پس مدینہ منورہ سے بادل ہٹ گئے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الاستسقاء / حدیث: 2931
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرج بنحوه البخاري: 932،1013، 1014، 1016، 1019، 3582، ومسلم: 897۔ وأخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 1029، 1030 معلقا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12019، 13016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12042»