الفتح الربانی
أبواب صلاة الاستسقاء— نمازِ استسقاء کے ابواب
بَابُ صِفَةِ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ وَالْخُطْبَةِ لَهَا وَالْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِيهَا باب: نمازِ استسقاء کی کیفیت، اس کے لیے خطبے اور اس میں جہری قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 2930
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا مُتَرَسِّلًا فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ لَمْ يَخْطُبْ كَخُطْبَتِكُمْ هَٰذِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ڈرتے ہوئے، گڑ گڑاتے ہوئے، عاجزی کرتے ہوئے، پرانے سے کپڑے پہنے ہوئے اور ٹھہر ٹھہر کر چلتے ہوئے نکلے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی طرح لوگوں کو دو رکعت نمازپڑھائی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا۔