الفتح الربانی
أبواب صلاة الاستسقاء— نمازِ استسقاء کے ابواب
بَابُ صِفَةِ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ وَالْخُطْبَةِ لَهَا وَالْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِيهَا باب: نمازِ استسقاء کی کیفیت، اس کے لیے خطبے اور اس میں جہری قراء ت کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عَمِّهِ قَالَ: شَهِدْتُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَسْتَسْقِي فَوَلَّى ظَهْرَهُ النَّاسَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَجَعَلَ يَدْعُو وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَمِّهِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَان کے چچے (سیّدنا عبد اللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ ) سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش مانگنے کے لیے نکلے اور اپنی پشت لوگوں کی طرف پھیرلی اورقبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر کو پلٹا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کرنے لگے، پھر دو رکعت نماز پڑھائی اور اس میں جہری قراءت کی، (دوسری سند سے مروی ہے) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید گاہ کی طرف نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کے لیے دعا کی اور جب قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چادر کو پلٹا۔