الفتح الربانی
أبواب صلاة الاستسقاء— نمازِ استسقاء کے ابواب
بَابُ صِفَةِ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ وَالْخُطْبَةِ لَهَا وَالْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِيهَا باب: نمازِ استسقاء کی کیفیت، اس کے لیے خطبے اور اس میں جہری قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 2926
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي وَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَنَا وَدَعَا اللَّهَ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، ثُمَّ قَلَّبَ رِدَاءَهُ فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن بارش مانگنے کے لیے نکلے اور اذان و اقامت کے بغیر ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اپنا چہرہ قبلہ کی طرف متوجہ کیا، اس حال میں کہ آپ ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر اپنی چادر کو الٹا کیا اور دائیں (طرف والے حصے کو) بائیں پر اور بائیں کو دائیں پر کیا۔