حدیث نمبر: 2914
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ثَنَا الْمُجَالِدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ ضَحْوَةً حَتَّى اشْتَدَّتْ ظُلْمَتُهَا فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَقَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ سُورَةً مِنَ الْمَثَانِي ثُمَّ رَكَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَكَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَكَعَ الثَّانِيَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِنَّ الشَّمْسَ تَجَلَّتْ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ سُورَةً، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَإِنَّمَا هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا انْكَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ))، ثُمَّ نَزَلَ فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الصَّلَاةِ فَجَعَلَ يَنْفُخُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ إِنَّهُ مَدَّ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنَّ النَّارَ أُدْنِيَتْ مِنِّي حَتَّى نَفَخْتُ حَرَّهَا عَنْ وَجْهِي، فَرَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ وَالَّذِي بَحَّرَ الْبَحِيرَةَ وَصَاحِبَةَ حِمْيَرَ صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مجالد کہتے ہیں: چاشت کے وقت سورج کو گرہن لگ گیا اور اس کا اندھیرا سخت ہوگیا، سیّدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی،مثانی میں سے ایک سورت کی قراءت کے بقدر قیام کیا، پھر اسی طرح کا رکوع کیا، پھر اپناسر اٹھایا، (قیام کیا اور ) پھر اسی کے مثل رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، اتنا ہی قیام کیا، پھر اسی طرح دوسرا رکوع کیا، اتنے میں سورج صاف ہوگیا، پھر انھوں نے سجدہ کیا اور (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے اور ایک سورت کی قراءت کے بقدر قیام کیا اور پھر رکوع اور سجدہ کیا، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد منبر پر چڑھے اور کہا: بے شک جس دن فرزند ِ رسول ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تھے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: بے شک سورج اور چاند کسی کی موت پر بے نور نہیں ہوتے، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، پس جب ان میں سے کوئی ایک بے نور ہوجائے تو نماز کی طرف پناہ لو۔ پھر منبر سے نیچے اترے اور بیان کیا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس نماز میں اپنے سامنے پھونکیں ماری اور پھر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، ایسے لگتا تھا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی چیز پکڑ رہے ہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: بے شک آگ میرے اتنی قریب کی گئی کہ اپنے چہرے سے اس کی حرارت کو ہٹانے کے لیے میں نے پھونک ماری اور میں نے اس میں لاٹھی والے، بحیرہ ایجاد کرنے والے اور حمیر قبیلے کی بلی والی خاتون کو دیکھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2914
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «مرفوعه صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد أخرج مرفوعَه البخاري: 1060، ومسلم: 915 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18142، 18178 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18323»