الفتح الربانی
أبواب صلاة الكسوف— نمازِکسوف کے ابواب
بَابُ مَنْ رَوَى أَنَّهَا رَكْعَتَانِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رُكُوعَانِ وَكَوْنِهَا فِي الْمَسْجِدِ جَمَاعَةً وَبَيَانِ مَرَاتِبِ الْأَرْكَانِ طُولًا وَقَصْرًا باب: اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں¤نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
حدیث نمبر: 2907
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَصَلَّى فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ (الْحَدِيثُ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ)ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا،پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا۔(باقی حدیث ایسے ہی ہے جیسے گزر چکی ہے)۔