حدیث نمبر: 2906
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ، قَالَتْ: فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ((دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ يَا رَبِّ! وَأَنَا مَعَهُمْ وَإِذَا امْرَأَةٌ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ، قُلْتُ مَا شَأْنُ هَٰذِهِ؟ قِيلَ لِي حَبَسَتْهَا حَتَّى مَا تَتْ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ کسوف پڑھائی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا، پھر قیام شروع کر دیا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر سجدہ کیا اور لمبا سجدہ، پھر سر اٹھایا اور پھر طویل سجدہ کیا، (پھر دوسری رکعت مکمل کی) اور نماز سے فارغ ہو گئے، پھر فرمایا: جنت میرے اتنے قریب کی گئی کہ اگر میں جرأت کرتا تو اس کے خوشوں میں سے ایک خوشہ تمہارے پاس لے آتا اور آگ بھی اتنی قریب کی تھی کہ میں نے کہا: اے میرے رب! (تو ان کو عذاب دینے لگا ہے) حالانکہ میں ان میں موجود ہوں۔ اچانک وہاں ایک ایسی خاتون جس کو ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے کہا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ مجھے کہا گیا کہ اس عورت نے ایک بلی کو قید کیا تھا، حتیٰ کہ وہ مر گئی تھی، اس نے نہ خود اسے کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2906
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 745، 2364 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27503»