حدیث نمبر: 2901
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُسْتَعْجِلًا حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجُلِّيَ عَنْهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ وَلَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ))، قَالَ وَكَانَ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَاتَ، ((فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يَنْكَشِفَ مِنْهُمَا مَا بِكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، آپ کھڑے ہوئے اور کپڑا گھسیٹتے ہوئے جلدی جلدی مسجد پہنچے اور لوگ بھی لگاتار جمع ہونا شروع ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سورج کا گرہن ختم ہوگیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، یہ کسی کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ اس دن دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیٹا(ابراہیم رضی اللہ عنہ ) فوت ہوا تھا۔ پس جب تم ان میں سے اس قسم کی چیز دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو، حتیٰ کہ وہ چیز ختم ہو جائے، جس میں تم مبتلا ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2901
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1040، 5795 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20661»