حدیث نمبر: 2895
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَلَا وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا كَذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ))، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فِيمَا نُرَى بَعْضَ {الٓركِتَابٍ} ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الْأُولَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا۔پس لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا: جناب ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کی وجہ سے سورج کو گرہن لگا ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ خبردار! یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو ڈر کر مسجد کی طرف پناہ لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہمارا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ ابراہیم کی بعض آیات تلاوت کیں، پھر رکوع کیا، اس کے بعدسیدھے ہوئے اور پھر دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت ادا کی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2895
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24029»