الفتح الربانی
أبواب صلاة الكسوف— نمازِکسوف کے ابواب
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ وَهَلْ تَكُونُ سِرًّا أَوْ جَهْرًا باب: نمازِ کسوف میں قراء ت اور اس کے جہری یا سرّی ہونے کا بیان
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُصَلَّى فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)) ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ … )) الْحَدِيثِسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیاتھا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے کی جگہ پر تشریف لائے اور اللہ اکبر کہہ کر (نماز شروع کی)، لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراءت کی اور جہری قراءت کی اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیااور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایااور سمع اللہ لمن حمدہ کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور طویل قراءت کی، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور (نماز سے فارغ ہو کر) فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے … ۔