الفتح الربانی
أبواب صلاة الكسوف— نمازِکسوف کے ابواب
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ وَهَلْ تَكُونُ سِرًّا أَوْ جَهْرًا باب: نمازِ کسوف میں قراء ت اور اس کے جہری یا سرّی ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2892
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكُسُوفَ (وَفِي لَفْظٍ صَلَاةَ الْخُسُوفِ) فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ فِيهَا حَرْفًا مِنَ الْقُرْآنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسوف کی نماز پڑھی، میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا تھا۔