حدیث نمبر: 2891
عَنْ أَبِي حَفْصَةَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ لَمَّا كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَأَمَرَ فَنُودِيَ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ فِي صَلَاتِهِ، قَالَتْ فَأَحْسِبُهُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)) ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ جَلَسَ وَجُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: عہد نبوی میں سورج کو گرہن لگا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور حکم دیا، پس الصلاۃ جامعۃ کی آواز دی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نے نماز شروع کر دی اور) لمبا قیام کیا، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ بقرہ کی تلاوت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا اور پھر گزشتہ قیام کی طرح قیام کیا اور سجدہ نہ کیا، اس کے بعد دوبارہ رکوع کیا اور پھر سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے اور اسی طرح کیا، جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا، یعنی ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پر (تشہد کے لیے) بیٹھ گئے اور اتنے میں سورج صاف ہو گیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2891
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 1044، 5221، ومسلم: 901، ومالك: 1/ 186، وابوداود: 1191 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24045، 24670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25177»