الفتح الربانی
أبواب صلاة الكسوف— نمازِکسوف کے ابواب
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ الصَّلَاةِ لَهَا وَكَيْفَ يُنَادَى بِهَا باب: کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 2890
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا سَجَدْتُّ سُجُودًا قَطُّ وَلَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ أَطْوَلَ مِنْهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، اس لیے الصلاۃ جامعۃ کی آواز دی گئی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے، پھر کھڑے ہوئے اور پھر ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر سورج صاف ہوگیا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کبھی بھی ایسا سجدہ نہیں کیا اور نہ ایسا رکوع کیا جو اس سے زیادہ لمبا ہو۔