الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
فِيمَا جَاءَ فِي الْإِحْتِرَازِ فِي رِوَايَةِ الْحَدِيثِ وَتَجْوِىْدِ أَلْفَاظِهِ كَمَا صَدَرَ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ باب: روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہوئے
حدیث نمبر: 289
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كُلُّ الْحَدِيثِ سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُحَدِّثُنَا أَصْحَابُنَا عَنْهُ، كَانَتْ تَشْغَلُنَا عَنْهُ رَعْيَةُ الْإِبِلِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”یہ ساری احادیث ہم نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنیں، ہمارے ساتھی ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، کیونکہ ہم اونٹ چرانے کی وجہ سے مصروف رہتے تھے۔“
وضاحت:
فوائد: … خلاصۂ کلام یہ ہے کہ بعض صحابہ احادیث ِ نبویہ بیان کرنے میں احتیاط کرتے تھے اور ان کو یہ خطرہ سا لاحق رہتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ غلطی ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام اور بعد میں ایسے لوگ بھی پیدا کر دیئے کہ جنہوں نے احادیث ِ مبارکہ کو اچھی طرح ضبط کیا اور پھر ان کو آگے بیان کیا، لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے کو بند نہ کریں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث، جو سند کے لحاظ سے قابل حجت ہوں، ان کو بیان کریں اور بد احتیاطی سے مکمل پرہیز کریں۔