الفتح الربانی
أبواب صلاة الكسوف— نمازِکسوف کے ابواب
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ الصَّلَاةِ لَهَا وَكَيْفَ يُنَادَى بِهَا باب: کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 2885
عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عہد نبوی میں جس دن (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے) ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے سورج کو گرہن لگ گیا، لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم یہ چیز دیکھو تو دعا کیا کرو اور نماز پڑھا کرو، حتیٰ کہ وہ صاف ہوجائے۔