الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
فِيمَا جَاءَ فِي الْإِحْتِرَازِ فِي رِوَايَةِ الْحَدِيثِ وَتَجْوِىْدِ أَلْفَاظِهِ كَمَا صَدَرَ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ باب: روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہوئے
حدیث نمبر: 288
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ؟ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ”کیا ابو ہریرہ تم کو تعجب میں نہیں ڈالتے؟ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک کونے میں بیٹھ کر مجھے سناتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کر رہے تھے، جبکہ میں نفلی نماز پڑھ رہی تھی، پھر وہ میری نماز پوری ہونے سے پہلے چلے گئے، اگر میں ان کو پا لیتی تو میں نے ان کا رد کرنا تھا، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح تسلسل کے ساتھ بات نہیں کرتے تھے۔“
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ ؓیہ کہنا چاہتی ہیں کہ نبی ٔ کریم لوگوں کو سمجھانے کی خاطر ٹھہر ٹھہر کر احادیث بیان کرتے تھے اور ابوہریرہؓ اس معاملے میں جلدی کرتے تھے۔