الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
فِيمَا جَاءَ فِي الْإِحْتِرَازِ فِي رِوَايَةِ الْحَدِيثِ وَتَجْوِىْدِ أَلْفَاظِهِ كَمَا صَدَرَ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ باب: روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہوئے
حدیث نمبر: 287
عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْوَهْمِ: ((يُتَوَخَّى)) قَالَ لَهُ رَجُلٌ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فِيمَا أَعْلَمُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سلیمان یشکری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے (نماز میں) وہم ہو جانے کے بارے میں یتوخی کا لفظ استعمال کیا، ایک آدمی نے ان سے کہا کہ ”کیا یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی جا رہی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میرے علم کے مطابق تو یہی بات ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … یتوخی کے معانی یُتَحَرّٰی کے ہیں، یعنی تحقیق وجستجو کی جائے اور بہتر کو تلاش کیا جائے۔ امام سفیان نے اپنی جامع میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓکی ایک حدیث کے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ((اِذَا شَکَّ اَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہٖ فَلْیَتَوَخَّ حَتّٰی یَعْلَمَ اَنَّہٗ قَدْ اَتَمَّ)) … جب کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ بہتر صورت کو تلاش کرے، یہاں تک کہ وہ یہ جان لے کہ اس نے نماز مکمل کر لی ہے۔