الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
فِيمَا جَاءَ فِي الْإِحْتِرَازِ فِي رِوَايَةِ الْحَدِيثِ وَتَجْوِىْدِ أَلْفَاظِهِ كَمَا صَدَرَ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ باب: روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہوئے
حدیث نمبر: 285
قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ أَبِي هَارُونَ الْغَنَوِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي هَانِئٌ الْأَعْوَرُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ هُوَ ابْنُ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فَاسْتَحْسَنَهُ وَقَالَ: زَادَ فِيهِ رَجُلًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(امام احمد کے بیٹے) بو عبدالرحمن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مطرف نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی، پھر میں نے یہ حدیث اپنے باپ (امام احمد) کو بیان کی، تو انہوں نے اس کو اچھا قرار دیا، البتہ عبداللہ نے اس میں ایک راوی (ہانی اعور) زیادہ کر دیا۔