حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ثَنَا أَبُو هَارُونَ الْغَنَوِيُّ عَنْ مُطَرِّفٍ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ) قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيْ مُطَرِّفُ! وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرَى أَنِّي لَوْ شِئْتُ حَدَّثْتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ لَا أُعِيدُ حَدِيثًا، ثُمَّ لَقَدْ زَادَ بِي بُطْءً عَنْ ذَلِكَ وَكَرَاهِيَّةً لَهُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْ بَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهِدْتُ كَمَا شَهِدُوا وَسَمِعْتُ كَمَا سَمِعُوا يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ مَا هِيَ كَمَا يَقُولُونَ، وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُمْ لَا يَأْلُونَ عَنِ الْخَيْرِ، فَأَخَافُ أَنْ يُشَبَّهَ لِي كَمَا شُبِّهَ لَهُمْ، فَكَانَ أَحْيَانًا يَقُولُ: لَوْ حَدَّثْتُكُمْ أَنِّي سَمِعْتُ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا، رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ صَدَقْتُ، وَأَحْيَانًا يَعْزِمُ فَيَقُولُ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: ”اے مطرف! اللہ کی قسم! میرا یہ خیال تھا کہ اگر میں دو دن مسلسل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کروں تو ایک حدیث دوسری دفعہ پڑھنے کی نوبت نہیں آئے گی، لیکن پھر میں نے دیکھا کہ مجھ پر سستی غالب آنے لگی ہے اور میں اس چیز کو ناپسند کرنے لگا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض لوگ میری طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر رہتے اور میری طرح احادیث سنتے تھے، لیکن جب وہ احادیث بیان کرتے ہیں تو وہ اس طرح نہیں ہوتیں، جیسے وہ بیان کرتے ہیں، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ خیر میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، اب مجھے بھی یہ اندیشہ ہونے لگا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر بھی (احادیث کا معاملہ) مشتبہ ہو جائے، جیسے ان پر مشتبہ ہو گیا ہے۔“ بسا اوقات سیدنا عمران رضی اللہ عنہ یوں کہتے تھے: ”اگر میں تم کو یہ بیان کروں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ یہ احادیث سنی ہیں تو میرا یہی خیال ہو گا کہ میں سچ کہہ رہا ہوں گا،“ اور بسا اوقات تو بڑے عزم کے ساتھ کہتے تھے: ”میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ایسے کہتے سنا ہے۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 284
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو ھارون الغنوي لم يسمعه من مطرف، بينھما هانيء الاعور وھو ضعيف ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 18/ 195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20134»