الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
فِيمَا جَاءَ فِي الْإِحْتِرَازِ فِي رِوَايَةِ الْحَدِيثِ وَتَجْوِىْدِ أَلْفَاظِهِ كَمَا صَدَرَ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ باب: روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہوئے
حدیث نمبر: 283
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدٍ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا إِذَا جِئْنَاهُ قُلْنَا: حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّا قَدْ كَبُرْنَا وَنَسِينَا وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن ابی لیلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے اور کہتے: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرو“ (پس وہ بیان کرتے تھے، لیکن جب وہ بوڑھے ہو گئے تھے تو) کہتے تھے: ”بیشک ہم عمر رسیدہ ہو گئے ہیں اور بھول گئے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو بیان کرنا سخت معاملہ ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ یقین یا ظن غالب ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی یہ احادیث بیان کی ہیں۔