الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي فَضْلِ تَبْلِيغِ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَنَقْلِهِ كَمَا سَمِعَ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى فَقَالَ: ((نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ثُمَّ أَدَّاهَا إِلَى مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ، إِخْلَاصُ الْعَمَلِ، وَالنَّصِيحَةُ لِوَلِيِّ الْأَمْرِ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تَكُونُ مِنْ وَرَائِهِ))سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ کی خیف وادی میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتازہ رکھے، جس نے میری بات سنی، پھر اس کو یاد کیا اور اس تک پہنچا دیا، جس نے اس کو نہیں سنا تھا، پس کئی حاملینِ فقہ ایسے ہیں کہ ان کے پاس فقہ نہیں ہوتی اور کئی حاملین فقہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک یہ فقہ پہنچا دیتے ہیں، اگر یہ تین چیزیں ہوں تو مومن کا دل خیانت نہیں کرتا: عمل کو خالص کرنا، امراء کی خیرخواہی کرنا اور جماعت کو لازم پکڑنا، پس بیشک ان کی دعا اس کے پیچھے ہوتی ہے۔“