الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي فَضْلِ تَبْلِيغِ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَنَقْلِهِ كَمَا سَمِعَ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ نَحْوًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ فَقُلْنَا: مَا بَعَثَ إِلَيْهِ السَّاعَةَ إِلَّا لِشَيْءٍ سَأَلَهُ عَنْهُ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: أَجَلْ، سَأَلَنَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَهُ، فَإِنَّهُ رُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ أَبَدًا، إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَمُنَاصَحَةُ وَلَاةِ الْأَمْرِ وَاللُّزُومُ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مَنْ وَرَاءَهُمْ)) وَقَالَ: ((مَنْ كَانَ هَمُّهُ الْآخِرَةَ، جَمَعَ اللَّهُ شَمْلَهُ وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِي رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ الدُّنْيَا فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ)) وَسَأَلَنَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَهِيَ الظُّهْرُابان بن عثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تقریباً نصف النہار کے وقت مروان کے پاس سے نکلے، ہم نے کہا: اس نے اس وقت کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لیے ان کو بلایا ہو گا، چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جی ہاں، اس نے مجھ سے ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتازہ رکھے، جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی، پھر اس کو یاد کیا، یہاں تک کہ اس کو آگے پہنچا دیا، کوئی حاملینِ فقہ فقیہ نہیں ہوتے اور کئی حاملینِ فقہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک یہ فقہ پہنچا دیتے ہیں۔ اگر تین چیزیں ہوں تو مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ تعالیٰ کے لیے خلوص کے ساتھ عمل کرنا، دوسرا امراء کی ہمدردی کرنا اور تیسرا جماعت کو لازم پکڑنا، کیونکہ مومنوں کی دعا ان کو پیچھے سے گھیر کر رکھتی ہے۔“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی فکر اور غم آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اس کا شیرازہ مجتمع کر دیتا ہے اور اس کے دل میں غنیٰ رکھ دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے، لیکن جس کی نیت اور عزم دنیا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے مشاغل بڑھا دیتا ہے اور اس کی فقیری اس کی پیشانی پر رکھ دیتا ہے اور دنیا بھی اس کو اتنی ہی ملتی ہے، جتنی اس کے مقدر میں لکھی ہوتی ہے۔“ اس نے ہم سے نمازِ وسطیٰ کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ظہر ہے۔“