حدیث نمبر: 275
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَمَّا أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ بِرِجَالٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ، أَفَلَا يَعْقِلُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مجھے اسراء کروایا گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے،“ میں نے کہا: ”اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”یہ آپ کی امت کے وہ خطیب لوگ ہیں، جو لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہیں، لیکن اس کے بارے میں اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہیں، جبکہ یہ کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہیں، کیا پس یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔“

وضاحت:
فوائد: … ہم اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، کوئی بھی مذہبی رہنما یا خطیب ہو، اس کو سب سے پہلے اپنی ذات اور اپنے گھر کی فکر کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 275
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه البيھقي: 4966، وابويعلي: 4160، وابن حبان: 53 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:13421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13454»