الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي وَعِيدِ مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا فَكَتَمَهُ أَوْ لَمْ يَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَعَلَّمَ لِغَيْرِ اللَّهِ باب: علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
حدیث نمبر: 273
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: أُلْجَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی سے علم سے متعلق کوئی سوال کیا گیا، لیکن اس نے اس کو چھپایا تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو آگ سے لگام ڈالے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … اہل علم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہر وقت مستعد رہیں اور لوگوں کے شرعی مسائل کے حل کو اپنے حق میں باعث ِ اعزاز سمجھیں اور اجر ِ عظیم کی امید میں ان معاملات کو آسان سمجھیں۔