حدیث نمبر: 2693
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ الْمُغِيرَةُ:) ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً فَذَهَبْتُ لِأُؤْذِنَهُ فَنَهَانِي (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَصَلَّيْنَا الَّتِي أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا (وَفِي لَفْظٍ) فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سَبَقَتْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند، سیّدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:)پھر ہم لوگوں کو جا ملے اور دیکھا کہ نماز کھڑی کردی گئی تھی اور سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کی امامت کرا رہے تھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے، میں ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بتانے کے لیے جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع کردیا، پس ہم نے جتنی نماز پالی اس کو پڑھا اور جو رہ گئی تھی، اس کو بعد میں ادا کر لیا۔ ایک روایت میں ہے: جس رکعت کو ہم نے پالیا اس کو پڑھ لیا اور جو رکعت رہ گئی تھی، اس کو (بعد میں) پورا کرلیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2693
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18347»