الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا يَفْعَلُ الْمَسْبُوقُ باب: جس سے کچھ نماز رہ گئی ہو، وہ کیا کرے؟ اس کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُبِقَ الرَّجُلُ بِبَعْضِ صَلَاتِهِ سَأَلَهُمْ فَأَوْمَأُوا إِلَيْهِ بِالَّذِي سُبِقَ بِهِ مِنَ الصَّلَاةِ فَيَبْدَأُ فَيَقْضِي مَا سُبِقَ ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي صَلَاتِهِمْ، فَجَاءَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلِ وَالْقَوْمُ قُعُودٌ فِي صَلَاتِهِمْ فَقَعَدَ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَضَى مَا كَانَ سُبِقَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اصْنَعُوا كَمَا صَنَعَ مُعَاذٌ))سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جب کسی آدمی سے کچھ نماز رہ جاتی تو وہ آکر (پہلے والے نمازیوں)سے سوال کر لیتا (کہ کتنی رکعتیں پڑھی جا چکی ہیں)، وہ اس کو اشارے سے بتا دیتے، پھر وہ شروع ہوتا اور پہلے اُتنی رکعتیں پڑھ کر پھر لوگوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جاتا۔ ایک دن یوں ہوا کہ میں (معاذ) آیا اور لوگ نماز (کے تشہد) میں بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی بیٹھ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو میں کھڑا ہوا جو (رکعتیں) رہ گئی تھیں، وہ پڑھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس طرح معاذ نے کیا ہے تم بھی (آئندہ) ایسے ہی کیا کرو۔