الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَنْ صَلَّى ثُمَّ أَدْرَكَ جَمَاعَةً فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُمْ نَافِلَةً باب: جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ قَالَ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فِي بَيْتِي، ثُمَّ خَرَجْتُ بِأَبَاعِرِ لِي لِأُصْدِرَهَا إِلَى الرَّاعِي، فَمَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الظُّهْرَ فَمَضَيْتُ فَلَمْ أُصَلِّ مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْدَرْتُ أَبَاعِرِي وَرَجَعْتُ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: ((مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ! أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا حِينَ مَرَرْتَ بِنَا؟)) قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي بَيْتِي، قَالَ: ((وَإِنْ))حنظلہ بن علی اسلمی،بنو الدیل کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے گھر میں نماز ظہر ادا کی، پھر میں اونٹوں کو لے کر نکلا تاکہ ان کو چرواہے کی طرف لے جاؤں، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے، میں تو وہاں سے گزرگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز نہ پڑھی، جب میں اونٹوں کو آگے بڑھا کر واپس لوٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلا دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے فلاں! جب تو ہمارے پاس سے گزرا تھا تو کس چیز نے تجھے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے گھر میں نمازپڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ (تو گھر میں نماز پڑھ چکا تھا، لیکن جب امام کے ساتھ نماز مل جائے تو دوبارہ پڑھ لیا کر)۔