الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَنْ صَلَّى ثُمَّ أَدْرَكَ جَمَاعَةً فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُمْ نَافِلَةً باب: جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
حدیث نمبر: 2684
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ مِحْجَنًا كَانَ فِي مَجْلِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟)) وَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)سیّدنا محجن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں تھا، جب نماز کے لیے اذان ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے تو دیکھا کہ محجن اسی جگہ میں بیٹھا ہوا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کس چیز نے تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا ہے،کیا تو مسلمان نہیں ہے۔ … … ۔ (سابقہ حدیث کی طرح)